راجکوٹ ٹی ٹونٹی میں ٹیم انڈیا کے کھلاڑیوں نے ہی اپنے کپتان کے دو بڑے کارناموں کو یادگار نہ بننے دیا

 اردو تہذیب ڈیسک
راجکوٹ:
کپتان وراٹ کوہلی نے جہاں دو بڑے کارنامے انجام دے کر نیوزی لینڈ کے خلاف راجکوٹ میں کھیلے گئے جس دوسرے ٹی ٹونٹی میچ کو یادگار بنانے نیز ٹیم کوفتح کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کی وہیں ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں نے اس میچ کو نیوزی لینڈ کے لیے یادگار بنانے میں نمایاں رول ادا کر کے اپنے کپتان کے کارناموں کو شکست کی دبیز چادر میں چھپا دیا۔کوہلی نے جس وقت اپنی اننگز کا 10واں رن بنایاوہ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں 7ہزار رنز بنانے والے پہلے ہندوستانی بلے باز ہو گئے۔
علاوہ ازیں وراٹ نے ٹی ٹوئنٹی کیریر کی212ویں اننگز میں یہ کارنامہ انجام دے کر کرس گیل کے بعدسب سے تیز 7000رنز بنانے والے دوسرے بلے باز ہونے کابھی اعزاز حاصل کر لیا۔اور جب کوہلی 12رنز کے انفرادی اسکور پر پہنچے تو وہ ٹی ٹونٹی میں سری لنکا کے تلک رتنے دلشان کے بعد سب سے زیادہ رنزبنانے والے دوسرے بلے باز ہو گئے۔لیکن ہندوستانی فیلڈروں ، بولروں، افتتاحی اور مڈل آرڈر کے بلے بازوں کی ناکامی اور وکٹ کیپر کی غفلت سے نیوزی لینڈ کو سریز میں واپسی کرنے کا موقع مل گیا۔ہندوستان نے ٹاس ہار کر ویسے ہی مایوس کن آغاز کیا تھا جس کو کیوی افتتاحی بلے بازوں مارٹن گوپتل اور کولن مونرونے 10رنز کی اوسط سے رنز بناتے ہوئے سنچری پارٹنر شپ کر اور زیادہ تکلیف دہ بنا دیا۔ لیکن یہ سنچری پارٹنرشپ ہونا اتنا تشویشناک نہیں رہا جتنامونرو کا سنچری بنانا رہا کیونکہ یہ سنچری بنوانے میں ہندوستانی فیلڈروں کا ہاتھ تھاجنہوں نے مونرو کو آؤٹ کرنے کے تین مواقع گنوا دیے۔
کیونکہ جس وقت افتتاحی وکٹ کے لیے سنچری پارٹنر شپ ہونے کے فوراً بعداکشر پٹیل نے آف سائڈ پر ایک چھوٹی گیند کی ۔جس کو مونرو نے چھکا لگانے کی کوشش میں لانگ آن کی جانب اچھال کر کھیلا لیکن وہاں تعینات فیلڈر سیرش ایر حاضر دماغی کا مظاہرہ نہ کر سکے اور گیند ان کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے باؤنڈری کے اوپر سے تیر گئی۔اس سے نہ صرف مونرو آؤٹ ہونے سے بچ گئے بلکہ مونرو نے ہاف سنچری بھی پوری کر لی۔ اس وقت مونرو صرف45رنز ہی بنا سکے تھے۔ اگلے ہی اوور کی پہلی گیند پر چاہل کی گیند پر گوپتل کے آؤٹ ہوتے ہی اسی اوور میں جب کپتان ولیمسن اور مونرو رن کے لیے پس و پیش کر رہے تھے روہت شرما دھونی کو عین وکٹ پر تھرو نہ کر سکے اور دھونی بھی وکٹ سے تھوڑا دور آنے والے تھرو کو غوطہ لگا کر نہ پکڑ سکے اورمونرو دوسری بار آؤٹ ہونے سے بچ گئے۔ مونرو ابھی سنچری سے31رنز دور تھے کہ انہوں نے تیسری بار آؤٹ کرنے کا موقع دیا ۔
لیکن بھونیشور کی گیند پر چاہل نے ڈیپ کور پر ان کا ایک آسان کیچ ڈراپ کر دیا۔ اگر ٹیم انڈیا کے بلے باز بیٹنگ کرتے ہوئے سمجھ داری دکھاتے تو فیلڈنگ کے دوران کی گئی غلطیوں کا ازالہ کیا جاسکتا تھا۔لیکن افتتاحی بلے باز ہی ایسی بنیاد نہیں ڈال سکے جس سے مڈل آرڈر کو ٹیم کو ہدف تک پہنچانے میں آسانی ہو جاتی۔دونوں ہی افتتاحی بلے باز ڈبل فیگر میں پہنچنے سے پہلے ہی بولٹ کا شکار ہو کر پویلین واپس لوٹ گئے۔اور جب آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا کے بھی مجموعی اسکور صرف65رنز پر آؤٹ ہوجانے کے بعد لمبی پارٹنر شپ کر کے کپتان کوہلی اور سابق کپتان دھونی کو اپنے میچ وننگ بلے باز اور بہترین فنشر ہونے کا ثبوت دینا تھاصرف56رنز کی ہی پارٹنر شپ کر سکے ۔اور کوہلی کے آؤٹ ہوتے ہی ٹیم انڈیا پٹری سے ایسی اتری کہ اسے شکست کا ہی منھ دیکھنا پڑا۔اور نیوزی لینڈ کی ٹیم دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ میں پہلے ون ڈے میچ میں شکست کی سود سمیت ادائیگی کرنے کے ساتھ ساتھ سریز میں1-1سے برابری کر لی۔
اس میچ کی مکمل روداد کچھ اس طرح رہی کہ 197رنز کے تعاقب میں ٹیم انڈیا کو بولٹ نے اپنے پہلے اور اننگز کے دوسرے اوور میں ہی دونوںافتتاحی بلے بازوں روہت شرما اور شکھر دھون کو پویلین کی راہ دکھا کر زبردست جھٹکے دیے۔ روہت نے 5اور دھون نے صرف ایک رن بنایا۔شریس ایر اور کپتان وراٹ کوہلی نے 54رنز کی پارٹنر شپ کر کے اسکور 65تک پہنچایا ہی تھا کہ 9ویں اوور میں ٹیم کو تیسرا جھٹکا کولن مونرو نے دیا انہوں نے اپنی ہی گیند پر ایر کو ان کے انفرادی اسکور 23پر کیچ آؤٹ کر دیا۔لیکن ا س دوران کوہلی نے شاندار ہاف سنچری بنائی جو کہ ان کے ٹی ٹونٹی کیریر کی 18ویں ففٹی ہے۔
کوہلی نے اپنے50رنز چھ چوکوں اور ایک چھکے کے ساتھ 32گیندوں پر بنائی۔ کوہلی نے 42گیندوں پر 65رنز بنائے اور8چوکے اور ایک چھکا لگایا۔مہندر سنگھ دھونی صرف ایک رن کے فرق سے اپنی ہاف سنچری سے چوک گئے۔ انہوں نے37گیندوں پر دو چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے49رنز بنائے۔ بولٹ چار وکٹ لے کر کامیاب بولر رہے۔ ٹیم انڈیا مقررہ20اووروں میں 7وکٹ پر156رنز ہی بنا سکی۔ مونرو کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔اس سے قبل ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ نے افتتاحی بلے باز کولن مونروکی طوفانی سنچری اور ساتھی افتتاحی بلے باز مارٹن گوپتل کے ساتھ صرف11اوورز میں105رنز کی اوپننگ پارٹنر شپ کی بدولت مقررہ20اووروں میں صرف2وکٹ کے نقصان پر 196رنز بنائے۔
مونرو نے 58گیندوں کی اپنی اننگز میں غیر مفتوح 109رنز بنائے ۔ جس میں انہوں نے سات چوکے اور اتنے ہی چھکے لگائے۔گوپتل 41گیندوں پر تین چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 45رنز بنا کر اسپنر یجویندر چاہل کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔اپنا پہلا ٹی ٹونٹی میچ کھیلتے ہوئے فاسٹ بولر محمد سراج نے کپتان ولیمسن کی شکل میں اپنے انٹرنیشنل کیریر کی پہلی وکٹ لی۔ یہ بات دیگر ہے یہ میچ اس حیدرآبادی نوجواان کے لیے یادگار نہیں بن سکا کیونکہ انہوں نے اپنے حصہ کے چار اوورز میں53رنز دیے۔ولیمسن نے دو چوکوں کے ساتھ 9گیندوں پر 12رنز بنائے۔جبکہ بروس 12گیندوں پر دو چوکوں کے سااتھ 18رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ ہندوستان کی جانب سے سراج کے علاوہ ایک وکٹ چاہل کو ملی۔

Title: the iffy middle order is separating virat kohlis side from the top teams | In Category: کھیل  ( sports )