برمنگھم کے پاکستانی قونصل خانہ میں پاک نژاد جنوبی افریقی کرکٹر عمران طاہر کی بے عزتی

لندن: جنوبی افریقہ کے لیگ اسپنر عمران طاہر کو پاکستان میں ہونے والی آئندہ سیریز کے لئے برمنگھم میں واقع پاکستانی قونصل خانہ میں نہ صرف ویزا دینے سے انکار کیا گیا بلکہ وہاں انہیں بے عزتی کا بھی احساس ہوا۔ جنوبی افریقہ کے کھلاڑی نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر اس بات کا انکشاف کیا۔ طاہر ورلڈ الیون ٹیم کا حصہ ہیں جنہیں پاکستان میں محدود اووروں کی سیریز کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ برمنگھم میں واقع پاکستانی قونصل خانہمیں ویزا لینے کے لئے پہنچے تو وہاں ان کی بے عزتی کی گئی اور ویزا دینے سے انکار کیا گیا۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم اور ورلڈ الیون کے مابین12,13اور15 ستمبر کو تین ٹوئنٹی20 میچوں کی بین الاقوامی سیریز کھیلی جانی ہے۔ پاکستانی نڑاد طاہر نے اس پورے واقعہ پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا ” مجھے اور میرے کنبے کو پاکستانی سفارتخانہ کی جانب سے اس وقت بے عزت کرکے باہر نکال دیا گیا جب میں وہاں عالمی الیون میں کھیلنے کے لئے ویزا کی درخواست دینے گیا تھا۔ پاکستان میں ہی پیدا ہوئے جنوبی افریقہ کے کھلاڑی نے ٹویٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں اس پورے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے پاکستانی سفارتخانہ میں ہتک عزت کا سامنا کرنا پڑا۔ میں وہاں اپنے کنبے کے ہمراہ ویزا لینے گیا تھا لیکن پانچ گھنٹے کے انتظار کے بعد وہاں کے افسران نے یہ کہہ کر ان کو اور ان کے گھر والوں کو قونصل خانہ سے نکال دیا کہ دفتر بند کرنے کا وقت ہوگیا ہے لیکن پاکستانی ہائی کمشنر ابن عباس کی مداخلت کے بعد ہی ،جنہوں نے ویزے جاری کرنے کی ہدایت کی، ہمیں ویزا مل سکا۔لیکن پاکستانی نڑاد ہونے کے باوجود ایک جنوبی افریقی کھلاڑی کے ساتھ ایسابرتاو¿ مایوس کن ہے۔ ہائی کمشنر ابن عباس کا شکریہ جنہوں نے میری لاج رکھی۔

Title: imran tahir humiliated and expelled by pakistan high commission | In Category: کھیل  ( sports )